۱۹۵۰ء ؁کی بات ہے، لاہور میں لکشمی چوک کے قریب میکلوڈ روڈ پر اخبارات و رسائل کا ایک کھوکھا قائم ہوا۔ جس نے جلد ہی باقاعدہ دکان کی شکل اختیار کر لی اور کتابی دُنیا کے نام سے موسوم ہوا۔ یہاں اس زمانے کے پاک و ہند سے شائع ہونے والے اَدبی، تاریخی، سیاسی اور فلمی رسائل کے علاوہ تمام اصنافِ ادب کی بہترین کتابیں بھی دستیاب ہونے لگیں۔

کتابی دُنیا کے روحِ رواں نوجوان سلطان محمد تھے، جنہوں نے اپنی اَنتھک محنت اور شب و روز کی لگن و شوق سے اس کو علاقے کی بہترین بُک شاپ بنا دِیا۔ سلطان صاحب اگرچہ زیادہ پڑھے لکھے نہ تھے مگر اَدب سے لگاؤ بہت تھا۔ اِن میں یہ اَدبی ذوق اُس زمانے کے نامی گرامی پبلشنگ ہاؤس نیا ادارہ (جو ترقی پسند تحریک کا ترجمان رسالہ سویرا بھی شائع کرتا تھا) کے مالک نذیر احمد چوہدری کی مرہونِ منت تھا۔ جنہیں سلطان صاحب اپنا اُستاد مانتے تھے۔ چوہدری صاحب بھی سلطان صاحب کو اپنے بیٹوں کی طرح عزیز رکھتے تھے۔ چوہدری نذیر صاحب مرنجانِ مرنج شخصیت کے مالک اور لاہور کے ادبی حلقوں کی جان تھے۔ نیا ادارہ قیامِ پاکستان سے قبل ہی سے ہندوستان کے ترقی پسند ادیبوں اور شاعروں کی بیٹھک تھا۔ یہاں آنے والوں میں سعادت حسن منٹو، کرشن چندر، ساحر لدھیانوی، راجندر سنگھ بیدی، بلونت سنگھ، غلام عباس، خواجہ احمد عباس، احمد ندیم قاسمی، حفیظ جالندھری، مجید امجد اور ناصر کاظمی خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ سلطان محمد صاحب کتابی دُنیا کے قیام سے قبل نیا ادارہ پر اِن لوگوں کے قریب رہے تھے۔ اِس لئے ان کی شخصیت میں اَدبی رَنگ نمایاں تھا۔ کتاب اور کتاب سے محبت اُن کے رَگ و پے میں رَچی بسی ہوئی تھی۔

نذیر احمد چوہدری کی تحریک اور معاونت سے سلطان صاحب نے کتابی دُنیا کی بنیاد رکھی۔ وہاں بھی اپنے بہترین اخلاق، ایمانداری اور چہرے پر ہر لمحہ دھیمی سی مسکراہٹ لئے شاعروں اور ادیبوں کا استقبال کرتے نظر آتے۔ تواتر سے وہاں آنے والوں میں ظہیر کاشمیری، شہزاد احمد، شورش کاشمیری، حمید اختر، علامہ نصیر الاجتہادی،علی سفیان آفاقی، ناصر ادیب، ریاض جاوید، محمد بدر منیر، انجم رومانی، احمد راہی، زاہد ڈار اور خواجہ پرویز کے علاوہ بہت سے دیگر ادیب اور شاعر شامل تھے۔

ابتداء میں کتابی دُنیا کے تحت چند رومانی ناولوں کے علاوہ رتن ناتھ سرشار کی فسانۂ مبتلا کی اشاعت ہوئی۔ ساٹھ کی دہائی کے آخر میں تیرتھ رام فیروز پوری کے تراجم لنگڑا جاسوس، تلافی گناہ، کلب فٹ کی واپسی، سنہری بچھو، زہری بان، چڑیا کی تِکی، سرابِ زندگی اور مقدس جوتا وغیرہ طبع ہوئے۔ ستر کی دہائی کے شروع میں جدید انگریزی جاسوسی ناولوں کے تراجم نہایت ہی اعلیٰ گٹ اَپ کے ساتھ چھاپے گئے۔ سلطان صاحب کو کتاب کی تزئیں و آرائش کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ یہ ذوق انہیں بے شک نذیر احمد چوہدری کی صحبت اور شاگردی میں حاصل ہوا۔ وہ انقلابی تحریکوں کے عروج کا زمانہ تھا۔ اس وقت ویت کانگ اور فدائین کے علاوہ ریاض جاوید کے معاشرتی ناول اجنبی آنے کے بعد کی طباعت ہوئی۔ اس ناول پر پی ٹی وی نے سیریل بھی بنائی۔

سلطان صاحب ذاتی طور پر نہایت پرخلوص انسان تھے اور ہر ضرورت مند کی مدد کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔ دکان پر آنے والے دوستوں کی تواضع کا ہمیشہ خیال رکھتے۔ اُدھار مانگنے والوں کی ضروریات فوراً پوری کرتے تھے، پھر دینے والا اور لینے والا دونوں بھول جاتے تھے۔۔۔!!! کسی ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر دوسروں کے کام آنا اُن کی سرشت میں تھا۔ ایک صاحب جن کا نامِ نامی ظہیر الدین تھا، شاہدرہ سے دکان پر آیا کرتے تھے۔ نہایت کائیاں اور چالاک شخصیت، لچھے دار باتیں کرنے میں طاق، چٹکیوں میں مقابل شخص کو شیشے میں اُتار لینے کے ماہر، سرکاری ملازم بھی تھے۔ یہ ۱۹۶۳ء ؁ کا زمانہ تھا۔ اُن دِنوں جاسوسی ناول نگاری میں اِبن صفی کا طوطی بول رہا تھا۔ ان حضرت نے اپنے آپ کو اِبن صفی کا فین ظاہر کر کے خط و کتابت کے ذریعہ اِبن صفی کے نئے ناولوں کی لاہور کے لئے ایجنسی حاصل کر رکھی تھی۔ حالانکہ کتب و رسائل کے کاروبار سے موصوف کا دُور دُور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ ایجنسی کے حوالہ سے ظہیر صاحب کی کتابی دُنیا پر آمد و رفت رہتی تھی۔ آدمی چرب زبان تھے، اس لئے آہستہ آہستہ سلطان صاحب کا اعتماد حاصل کر لیا۔

یہ وہ دور تھا جب اِبن صفی کی طویل بیماری کے دوران لاہور کے کئی اداروں نے عمران سیریز اور جاسوسی دُنیا کی جعلی کتب چھاپ رکھی تھیں۔ اِبن صفی کی صحت یابی کے بعد ظہیر صاحب بذریعہ طیارہ کراچی پہنچے۔ (واضح رہے کہ اس زمانے میں طیارے کا سفر عام بات نہ تھی اور صرف امراء یا بڑے تاجران ہی یہ ذریعۂ سفر استعمال کرتے تھے۔) ظہیر صاحب نے کسی نہ کسی طرح لاہور سے اِبن صفی کے پرانے ناولوں کی اشاعت کے حقوق حاصل کر لئے۔ چونکہ خود انہیں پبلشنگ کا کوئی تجربہ نہ تھا، اس لئے یہ ناگزیر ضرورت انہیں کتابی دُنیا پر لے آئی۔ یوں سلطان صاحب نے اِبن صفی کی کتابوں کی اشاعت میں معاونت کی حامی بھر لی۔

۱۹۶۴ء ؁ میں سلطان صاحب نے بغیر کسی صلے کی پروا کئے، اس مشن میں دِن رات ایک کر دیا۔ ناولوں کی کتابت، چھپائی، ٹائٹل، جلد بندی، کاغذ کا حصول، پھر مشرقی اور مغربی پاکستان میں کتب کی ترسیل تک کے تمام مراحل وَن مین شو کے تحت چلنے لگے۔ اِس کے ساتھ ساتھ اِبن صفی کے جعلی پبلشرز کو قانونی نوٹس بھجوائے اور اُن کے سٹاک تلف کروائے گئے۔ یوں اسرار پبلی کیشنز میکلوڈ روڈ لاہور کے تحت یک رَنگ ایڈیشن کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا اور مقبولیت کی منزلیں طے کرنے لگا۔ سلطان صاحب کو خوب صورت کتابت کروانے کا بہت شوق تھا۔ انہوں نے بعض ناولوں کے سرورق کی کتابت حافظ یوسف سدیدی کے علاوہ نفیس رقم صاحب سے بھی کروائی۔ عمران سیریز اور جاسوسی دُنیا کے اوّلین یک رَنگ ایڈیشن کے ٹائٹل ممتاز مصور اور سیاستدان جناب محمد حنیف رامے (نذیر احمد چوہدری کے چھوٹے بھائی) سے ڈیزائن کروائے۔ اُس وقت عام ناول ایک روپیہ اور خاص نمبر کی قیمت ڈیڑھ روپیہ تجویز ہوئی۔ 

دو ڈھائی سال تک اسرار پبلی کیشنز کے تمام مالی معاملات ظہیر صاحب کی ذات تک محدود رہے۔ سلطان صاحب کی شب و روز کی محنت کا وہ صلہ نہ دِیا گیا، جس کے وہ حقدار تھے۔ حتیٰ کہ ظہیر صاحب نے اِبن صفی کو رائلٹی دینے میں بھی کوتاہی برتی۔ اِبن صفی بھی بادشاہ بندے تھے، انہوں نے پلٹ کر پوچھا تک نہیں۔ بالآخر جب اِبن صفی نے دَبے لفظوں میں موصوف کی توجہ اِس طرف دلائی تو انہوں نے بڑی خوب صورتی سے حالات کا رونا رو کر معاملہ وعدۂ فردا پر ٹال دِیا۔

حالات نے اچانک پلٹا کھایا، ظہیر الدین صاحب سرکاری خزانے میں لاکھوں روپے غبن کرنے کے الزام میں گرفتار کر لئے گئے۔ مقدمہ چلا اور الزام ثابت ہونے پر جائیداد کی قرقی کے ساتھ سزائے قید ہوئی اور جیل بھجوا دِیے گئے۔

اِن حالات میں، غالباً ۱۹۶۷ء ؁ میں اِبن صفی نے سلطان صاحب کو کراچی بلوایا۔ ملاقات ہوئی، اعتماد کا اظہار ہوا اور خوش اسلوبی سے معاملات طے پا گئے۔ اسرار پبلی کیشنز لاہور کے تحت چھپنے والی کتب کے حقوقِ اشاعت کتابی دُنیا کے نام منتقل ہو گئے۔ کتب کی رائلٹی باقاعدگی اور تواتر سے حساب کتاب سمیت اِبن صفی کو پہنچتی رہی۔ ۱۹۸۰ء ؁ میں اِبن صفی کی وفات کے بعد بیگم اِبن صفی سے اور پھر ۲۰۰۳ء ؁ میں بیگم صاحبہ کے انتقال کے بعد اُن کے ورثاء سے مالی معاملات بخیر و خوبی انجام پا رہے ہیں۔ اس نصف صدی کے دوران اِبن صفی اور سلطان محمد کے خاندانوں کے درمیان الحمدللہ معاملات ہموار طریقے سے چل رہے ہیں اور اب دوسری نسل میں بھی محبت اور خلوص کے یہ تعلقات پنپ رہے ہیں۔

یہ اَمر قابل ذکر ہے کہ جس دن اِبن صفی کا نیا ناول لاہور پہنچتا، دکان پر لائبریرین، کتب فروش اور انفرادی پڑھنے والوں کا تانتا بندھ جاتا۔ ڈاکٹر، انجینئر، مذہبی رہنما، سرکاری و غیر سرکاری ملازمین، ٹیکسی ڈرائیور، مزدور، طالب علم، سیاسی رہنما، دانشور، مصور، خواتین، بچے، بوڑھے غرض ہر طبقہ اور ہر شعبہ کے لوگ جوق دَر جوق نئی کتاب کے حصول کے لئے آتے۔ جب کتاب کی آمد میں تاخیر ہوتی تو اِبن صفی کے متوالوں کی پریشانی دیدنی ہوتی۔ ایک ڈاکٹر صاحب نئی کتاب لینے کے لئے آتے تو بلند آہنگ قہقہہ لگاتے ہوئے کہتے: یار سلطان! یہ کمبخت اِبن صفی روزانہ ایک نئی کتاب کیوں نہیں لکھتا؟ علامہ نصیر الاجتہادی فرماتے: سلطان صاحب! جب میں مطالعے سے تھک جاتا ہوں تو تازہ دَم ہونے کے لئے اِبن صفی کو پڑھتا ہوں۔ ایک صاحب کے بقول وہ نیا ناول اپنے لئے نہیں بلکہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے لئے خرید کر لے جاتے ہیں۔ ایک پولیس کانسٹیبل ہر ماہ پابندی سے نئی کتاب آنے کے چند گھنٹے بعد ہی وارد ہو جاتے، خاموشی سے کتاب اُٹھاتے اور اُس وقت تک کرسی نہ چھوڑتے جب تک ناول ختم کر کے اگلی کتاب کا اشتہار نہ پڑھ لیتے۔ مطالعہ کے دوران انہماک کا یہ عالم تھا کہ دُنیا مافیہا سے بے خبر ہو جاتے۔ اُن کے ہونٹ اور زبان تیزی سے حرکت کرتے رہتے مگر دِلچسپ بات یہ تھی کہ آواز بالکل نہ نکلتی۔ پھر اُٹھتے اور بغیر کچھ کہے خاموشی سے سلطان صاحب کو سلیوٹ مار کر اپنی راہ لگتے۔ مدتوں اُن کی یہی روٹین رہی۔ ایک خاتون تشریف لاتیں، اِبن صفی کو ڈھیروں دعائیں دیتیں، پھر بضد ہوتیں کہ سلطان صاحب سب کام چھوڑ کر اُن کے ساتھ اِبن صفی کی ذاتی اور گھریلو زندگی کی باتیں شیئر کریں۔ یہ بات تو اکثر قارئین پوچھتے کہ آپ لوگوں کی اِبن صفی سے کیا رِشتہ داری ہے؟

اِبن صفی کے اکثر پڑھنے والے دریافت کرتے کہ وہ خاصے امیر کبیر شخص ہوں گے، لاکھوں کتابوں کی فروخت سے اُنہوں نے خاصی دولت اور جائیداد بنائی ہو گی؟ سلطان صاحب نے اِبن صفی سے ایک ملاقات میں اَز راہِ تفنن یہی سوال دہرایا تو اِبن صفی گویا ہوئے: سلطان میاں! میں نے جو کمایا تمہارے سامنے ہے، ایک یہ چھوٹا سا گھر بنا پایا ہوں۔ میری اصل دولت میری اولاد ہے، جس کی تعلیم و تربیت میں، میں نے کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی۔
 

راقم الحروف کو اِبن صفی سے کئی ملاقاتوں کا شرف حاصل ہوا۔ کراچی میں قیام اکثر اُن کے گھر ہی پر رہتا تھا، اس لئے اُن سے اور اُن کے صاحبزادوں سے گپ شپ رہتی تھی۔ اِبن صفی صاحب نہایت شفقت اور پیار سے پیش آتے۔ کھانے کی میز پر مختلف ڈِشیں آگے بڑھاتے۔ کبھی کہتے: بھئی خالد میاں! پنجاب کے لوگ تو بہت خوش خوراک ہوتے ہیں۔ تم نے اِتنی جلدی ہاتھ کھینچ لیا، کیا کھانا پسند نہیں آیا؟ ستر کی دہائی کے آخر میں کراچی میں ڈائجسٹوں کی مارکیٹ عروج پر تھی۔ ایک دِن باتوں باتوں میں کہنے لگے: آج کل تو نئے سے نیا ڈائجسٹ آ رہا ہے، تم بھی نکال ڈالو ایک آدھ ڈائجسٹ۔     
 

والد صاحب اکثر کہا کرتے تھے، اِبن صفی بڑا بیبا (پیارا) بندہ ہے۔ ایک بار انہوں نے کراچی میں اِبن صفی پر کسی جگہ گفتگو کرتے ہوئے یہی لفظ دہرایا۔ بعد میں اِبن صفی کو معلوم ہوا تو وہ ایک پنجابی شخص سے بیبا کا مطلب پوچھتے رہے۔

میں نے صفی صاحب کو قہقہہ لگا کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا۔ شاید میری ملاقاتوں کے زمانے میں وہ ڈاکٹروں، حکیموں اور بیماریوں کے گرداب میں پھنسے ہوئے تھے۔ مارچ ۱۹۸۰ء ؁ کی ایک شام میں اِبن صفی کے ہمراہ اُن کے ڈرائنگ روم میں موجود تھا کہ بھارت سے اُن کے ایک دیرینہ دوست شکیل جمالی صاحب تشریف لائے۔ اتنے برسوں بعد دو دوستوں کا ملاپ دیدنی تھا۔ دونوں کی آنکھیں نم تھیں، اِبن صفی طویل بیماری کے باعث کمزور اور خاصے ضعیف لگنے لگے تھے۔ اِس جذباتی ماحول میں شاید دونوں دوست ماضی کی حسین یادوں میں کھو گئے تھے۔ کافی دیر خاموشی رہی، تب کہیں جا کر ایک دوسرے کے احوال دریافت کئے گئے۔

جولائی ۱۹۸۰ء ؁ میں اِبن صفی کی وفات کے بعد سلطان صاحب نے اُن کے ورثاء کی مالی سپورٹ کی خاطر دِیگر تجاویز کے علاوہ یہ پیش کش بھی کی کہ آئندہ اگر وہ خود مرحوم کی کتب چھاپنا چاہیں تو اُنہیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ لیکن اِبن صفی کے خاندان نے شکریے کے ساتھ اس تجویز کو قبول کرنے سے معذرت کر لی۔

اِبن صفی کے انتقال کے پندرہ برس بعد سلطان صاحب جنوری ۱۹۹۵ء ؁ میں اس دُنیا سے رخصت ہو گئے۔ اُن کی وفات کے بعد ۱۹۹۷ء ؁ میں لاہور سے یک رَنگ ایڈیشن کی طباعت ختم کر کے نئے سرے سے جدید تقاضوں کے مطابق تمام کتب کی کمپیوٹر پر کمپوزنگ کروائی گئی، گٹ اَپ میں بنیادی تبدیلیاں عمل میں لائی گئیں۔ سائز بڑا ہوا، ہر جلد کا علیحدہ فور کلر ٹائٹل بنایا گیا۔ قارئین کی سہولت کے لئے حصوں والی کتب کو اکٹھا کر دیا گیا۔ بلکہ انفرادی کتب کو بھی جلدوں کی صورت دے دی گئی۔ یوں عمران سیریز کی 120 کتب سمٹ کر 36 جلدوں میں اور جاسوسی دُنیا کے 125 ناول 42 جلدوں کی صورت میں منظر عام پر آئے۔ اِن تبدیلیوں کو قارئین نے بہت پسند کیا۔

اِبن صفی کے انتقال کو 33 برس ہوئے۔ اسرار پبلی کیشنز لاہور اس دوران اُن کے نام کو زندہ رکھنے کی اپنی سی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔ اگرچہ گزشتہ چند برسوں میں ادارے کی دیگر کاروباری مصروفیات کے باعث اِبن صفی کی کتب کی فروخت میں اضافے کے سلسلہ میں کچھ کوتاہی ضرور سامنے آئی۔ لیکن ہمیشہ دونوں سیریز کی تمام کتب کے مکمل سیٹ کی دستیابی کو یقینی بنایا گیا۔


اِبن صفی کی تمام کتب درج ذیل پتہ سے دستیاب ہیں، ان شاء اللہ جلد ہی آن لائن آ رڈر کا سلسلہ بھی شروع کیا جا رہا ہے:


           ASRAR PUBLICATIONS
           Stockist: USMAN TRADERS
           Al-Karim Market, Main Kabir Street,
           Urdu Bazar, Lahore-Pakistan.
           Ph: +92-42-37321970, 37357022